تحریر: علی نقوی، سابق سیکریٹری اطلاعات شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
حوزہ نیوز ایجنسی | 28 فروری 2026 سے مسلسل عالمی دہشتگرد امریکہ و اسکی ناجائز اولاد اسرائیل عالمی قوانین کی سخت ترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں گو کہ امریکہ و اسرائیل کے حوالے سے یہ انکی تاریخ رہی ہے مگر اس مرتبہ جنگ کی شروعات ہی شجر طیبہ پرائمری سکول اور ایک ریاست کے سپریم لیڈر پر حملوں جیسے سخت ترین جنگی جرائم سے کی گئی ہے۔
28 فروری کے بعد سے عالمی دہشتگردوں نے ایران کے مختلف شہروں میں سولین انفراسٹرکچر کو جدید اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، کبھی تعلیمی ادارے، کبھی شہری رہائشی عمارتیں، کبھی کھیل کے میدان و پارک تو کبھی مارکیٹوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا کے جنگی جرائم کی نئی داستان رقم کردی ہے۔۔۔۔ دنیا اس بربریت پہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ غزہ و لبنان و یمن کے بعد ایران میں ہونے والے بدترین جنگی جرائم پہ اندھی، گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔
اسلامی جمہوری ایران پہ حملے کے بعد امریکہ و اسرائیل مسلسل اصفہان کو نشانہ بنارہے ہیں جبکہ اصفہان کے بیشتر مقامات کا شمار عالمی ثقافتی ورثےمیں ہوتا ہے۔
ایران کا شہر اصفہان قدیم ترین اور خوبصورت ترین تاریخی شہروں میں سے ایک ہے، جو اپنی شاندار تاریخ، ثقافت، خوبصورتی و فن تعمیر کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
اصفہان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، صفوی دور سلطنت میں اصفہان کو ایران کا دارلحکومت بنایا گیا اور شہر کو خوبصورتی سے تعمیر کیا گیا، حکومت نے اصفہان کو سیاسی، ثقافتی و اتجارتی مرکز کے طور پہ متعارف کیا۔
اصفہان نصف جہان۔۔۔۔۔۔ آپ نے یہ جملہ اکثر سنا ہوگا اس جملے سے اس شہر کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، قدیم زمانے میں اصفہان سلک روڈ کا اہم حصہ تھا جس کی وجہ سے یہ شہر مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا مرکز بن گیا۔
اصفہان قالین بانی، مینا کاری اور خطاطی جیسے روائیتی فنون کا مرکز رہا ہے، یہاں کی دستکاری پوری دنیا میں ناصرف مشہور ہے بلکہ بے انتہاء پسند کی جاتی ہے۔
اصفہان میں اسلامی فن تعمیر کی بہترین مثالیں موجود ہیں جیسے:
۔ نقشِ جہاں اسکوائر (یہ دنیا کے بڑے تاریخی چوراہوں میں سے ایک ہے)
۔ امام مسجد یا شاہ مسجد اصفہان (یہ مسجد فن تعمیر کا شاہکار ہے اور ایران کی مشہورمساجد میں سے ایک ہے، شاندار ٹائل/موزائک کا کام، گنبد کی تعمیر وغیرہ)
۔ شیخ لطف اللہ مسجد (اس مسجد کو فارسی فن تعمیر کی سب سے شاندار مثالوں میں سے ایک کے طور پہ شہرت حاصل ہے)
۔ چہل ستون محل ( چالیس کالموں اور باغات کے ساتھ ایک خوبصورت عمارت)
۔ ہشت بہشت محل ( شاندار ٹائلوں /موزائک یا مینا کاری کے کام سے مزئین عمارت)
۔ قیصری بازار (مقامی دستکاروں کے فن پاروں سمیت اشیاء کا روایتی بازار)
اصفہان عالمی ثقافتی ورثے کے حوالے سے نہایت اہم شہر ہے، یہاں کئی تاریخی مقامات کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔
۔ نقشِ جہاں سکوائر
یہ اصفہان کا سب سے مشہور اور مرکزی مقام ہے جسے 1979 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
اس چوراہے کے ارد گرد اہم عمارتیں موجود ہیں جن میں امام مسجد اصفہان، شیخ لطف اللہ مسجد، عالی قاپو محل وغیرہ شامل ہیں۔
یونیسکو نے اصفہان کے ان مقامات کو اسلامی فن تعمیر کا شاہکار (گنبد، مینار، ٹائل/موزائک یا مینا کاری کی وجہ سے) اور صفوی دور میں فنون لطیفہ کے عروج سمیت شہری منصوبہ بندی (چوراہہ اور ارد گرد کی عمارتوں کی منظم ترتیب) کی بدولت عالمی ورثہ قرار دیا۔
اصفہان نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک قیمتی ثقافتی خزانے کی مانند ہے، یونیسکو کی فہرست میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شہر انسانی تاریخ، فن، تہذیب و ثقافت کا اہم ترین ورثہ ہے جسکی حفاظت ہم سب کی زمہ داری ہے، اس ضمن میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے ذمہ دار ممالک کو بالخصوص یونیسکو اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے تاکہ اس عالمی ورثے کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔









آپ کا تبصرہ